پھر بھی زندگی بہت حسین ہے

دسمبر 1991ع دنیا کے معروف علمٍ طبیعات کے سائنسدان اسٹیفن ولیم ہاکنگ سے اس کی بیوی “جین ہاکنگ” نے طلاق مانگی اور اس نے یہ کہ کر کہ” تمہیں ایک حسین زندگی مبارک ہو” اسے طلاق دے دی.
ہاکنگ جس نے “بریف ہسٹری اوف ٹائیم” لکھ کر آئین اسٹائین کے نظریہ اضافت اور نسبت کے قانون کو ایک نئی جہت دے کر اس وقت کے بادشاہ سائنسدان “سر رچرڈ ڈاکن” کو بھی محوٍ حیرت کردیا تھا. اسٹیفن ولیم ہاکنگ جو پچھلے تیس برسوں سے موٹر نیورون جیسی خطرناک بیماری میں مبتلا تھا کہ جس کی وجہ سے وہ صرف اپنی دو انگلیوں پر ہی قدرت رکھ رہا تھا، وہ گذشتہ بائیس برس سے رفیق بیوی کی جدائی پر دل شکستہ تو ہؤا ہی، لیکن کیا کہنے اس کے جوش اور ولولہ کا جو طلاق کے ٹھیک تین بعد بھی اپنے انٹرویو میں اس نے کہا کہ : “اس حالت میں بھی مجھے ابھی تیس برس اور جینا ہے، اور کائنات کے کچھ راز جاننے ہیں، میں آپ سب کو بتادونگا کہ کائنات کتنی وسیع ہے اور اس میں زندگی کہاں کہاں پائی جا سکتی ہے.”
ولیم ہاکنگ کائنات کو جاننے میں بلیک ہول تلاش کر رہا تھا اور میں اس قدرتی اتفاق پر شاید رچرڈ ڈاکن سے زیادہ انگشت بزبان رہ گیا کہ ٹھیک اسی مہینے، اسی برس، یعنی بیس دسمبر 1991ع میں ٹھٹہ ضلع کے تحصیل جاتی میں ایک فری میڈیکل کیمپ پر جاتے ہوئے ایک ایمبولینس کا ایکسیڈینٹ ہوگیا جس میں تیرہ لوگ شدید زخمی ہوئے، ایک چل بسا، اور باقی بارہ زخمیوں میں ایک ایسا بھی انسان تھا جو آغا خان ہسپتال میں چھ مہینے کے طویل علاج کے بعد ڈاکٹروں کی اس بات سے گھر واپس آگیا کہ ” اب آپ نہ چل سکتے ہیں، اور نہ بیٹھ سکتے ہیں، بس تمام جسم میں صرف منہ اور دائیں ہاتھ کی چند انگلیوں کو چلا سکتے ہیں، کیوں کہ آپ کی ریڑھ کی ہڈی بالکل ناکارہ ہوچکی ہے”.
وہ خود ڈاکٹر تھا، جس کا نام اسلم خواجہ ہے. اور لکھنے پڑھنے والی دنیا کے لوگ اسے ڈاکٹر اسلم آزاد کے نام سے جانتے ہیں.
ڈاکٹر اسلم آزاد، جو کہ ابھی ابھی ڈاکٹری کی سند لے کر باہر نکلا تھا، اور شاگردی کے زمانے سے شاگرد سیاست میں بھی سرگرم تھا، اور ساتھ میں روزنامہ جنگ میں حیدرآباد کا نمائندہ خصوصی کے طور پر بھی اپنے فرائض انجام دے رہا تھا.
بہت بے باک رپورٹنگ کی وجہ سے صحافت کی دنیا میں چند ہی دنوں میں اس نے وہ نام پیدا کردیا کہ اچھے اچھے صحافی اس سے ملنا اور بات کرنا اپنے لیے ایک اعزاز سمجھنے لگے! صحافت کے ساتھ وہ اپنا وقت اور صلاحیتیں فلاحی کاموں میں گذارنے لگا، کہ دسمبر کا وہ منحوس دن آ پہنچا جب وہ ایک مفت طبی کیمپ کے لیے جا رہا تھا، اور حادثہ پیش آگیا.
آغا خان ہسپتال کراچی سے ڈسچارج ہونے کو بعد وہ آج تک ایک بستر پر لیٹا ہؤا ہے، کتابیں، ٹی وی، دوست اور اپنے اہلٍ خانہ کے ساتھ اس نے اس طرزٍ زندگی کو خندہ پیشانی کے ساتھ نہ صرف قبول کیا بلکہ اپنے پیرسن باپ، بھائی اور بہنوں کے لیے ایک زندگی کی نوید بن کر جینے لگا.
“بس اپنے ناک پر بیٹھی مکھی نہیں ہٹا سکتا باقی تو سب خیر ہے!” یہ تھا جواب ڈاکٹر اسلم آزاد کا جب میں نے اس سے پوچھا کہ کیا محسوس کر رہے ہیں گذشتہ انیس برسوں سے؟
“زندگی بہت حسین ہے، اور ضروری نہیں کہ اس زندگی میں اپنے اپنے آئیڈیل بنا کر آدمی چلے، کبھی کبھی زندگی کی اسرار و رموز بھی انسان سمجھے!”، وہ کہنے لگا: “شاید زندگی مجھ سے اب یہی تقاضا کر رہی ہے کہ میں سب کو بتادوں کہ زندگی یہ بھی ہے، اور اس میں بھی انسان خوش رہ سکتا ہے”.
ڈاکٹر اسلم آزاد، خواجہ کالونی سجاول میں سکونت پذیر ہے، اور اپنے کمرے میں آئے ہوئے دوست و احباب کو خوش امیدی اور زندگی کی حسناکیوں پر اپنے گوہرٍ ناویدہ سناتا رہتا ہے. ایک بہت مزے کی بات میں نے محسوس کی کہ ڈاکٹر آزاد کے محلے میں اگر کسی کو بخار یا کوئی مرض ہوبھی جاتا ہے تو وہ ڈاکٹر آزاد کا تصور کرتے ہی اپنے بستر سے اٹھ بیٹھتا ہے، کہ میں بخار میں بھی کراہ رہا ہوں اور ذرا اسلم صاحب کو تو دیکھو! اور یوں ڈاکٹر اسلم آزاد پورے محلے میں زندگی کی نوید بن کر سب کو حوصلہ دیتا ہے.
میرے سوال کہ کیا آپ کو امید ہے کہ آپ پھر چل پھر سکتے ہیں کے جواب میں کہا کہ: “دیکھیں فیاض! میرا خیال ہے کہ اوباما نے کلوننگ پر سے پابندی ہٹادی ہے، بش ایک رجعت پسند تھا، اب مجھے لگ رہا ہے کہ دو تین برسوں میں کلوننگ کی وجہ سے میں چل پھر سکتا ہوں، بہر حال میں پر امید ہوں.”
اتنی پر امیدی !!!!؟ مائکروچپ سنسرڈ چیئر پر بیٹھا برطانوی سائنسدان اسٹیفن ولیم ہاکنگ اپنے سامنے وسیع تر ٹیکنولوجی دیکھ کر اور اپنی پذیرائی دیکھ کر اگر اتنا زندگی سے پر امید ہے تو کوئی اچھنبے کی بات نہیں، لیکن سجاول جیسے بےحس (معاف کیجیئے گا میرے سجاولی دوستو) شہر میں ایک کمرے میں بیٹھا ڈاکٹر اسلم آزاد اتنا پر امید، اتنا خوش مزاج! کہ ہر ماہ وہ اپنے دوستوں کو دعوت دے کر بلاتا ہے اور ان سے خوش مزاجی کے ساتھ سیاست سے لیکر فلسفے تک کچہریاں کرتا رہتا ہے تو تعجب ضرور ہوتا ہے!
ہمارے ہاں تو تو اکثر دیکھا یہ گیا ہے کہ رٹائرمنٹ کے بعد ہر آدمی تسبیح اور مصلہ پکڑ کر اپنی عاقبت کا سامان کٹھے کرنا شروع کر دیتا ہے، اور اگر خدا نخواستہ کوئی ایسا مرض لاحق ہوجائے تو اپنے عزیز و اقارب بلا کر اپنے گناہوں کی معافیاں مانگنے بیٹھ جاتا ہے، لیکن اسے تو دیکھیں اے اہلٍ دانش دوستو!
ایک بات ضرور سمجھ میں آتی ہے. کہ، ڈاکٹر اسلم آزاد کا تعلق ایک ایسے مکتبہ فکر سے ہے جو دنیا کو جنت بنانے میں کوشاں ہیں، شاید یہ بھی سبب ہے کہ وہ زندگی کو رعنائیوں سمیت دیکھ رہا ہے. اور دوسرا، وہ ایک ایسی سیاسی اسکول کی پیداوار ہے جو غمٍ دہر کو خوشیوں کا گہوارا بنانا چاہتے ہیں. اور اس کے مدٍ مقابل ہماری سوچ اکثر ایسی ہے کہ:
اول: ہم لوگ دنیا کو ایک مسافر خانہ سمجھ کر، اپنی تمام تر غلاظتیں یہاں پھینکتے جاتے ہیں، یہ خیال تو کرتے ہی نہیں کہ اگلے مسافر ہماری اپنی اولاد ہی ہوگی! اور اس دائمی زندگی کا سامان کٹھے کرتے کرتے اس فانی دنیا کو تو بنادیا ہم نے ایک کچرا گھر!
دوم: زندگی سے متعلق ہمارا رویہ ایسا ہی ہے جیسے کانچ کی کھڑکی پر چپٹی مردہ مکھی پر نظر گاڑے ہم دور کے حسین مناظر تو دیکھ ہی نہیں پاتے، اور کہتے ہیں کہ دنیا گند کا ڈھیر! کبھی ہم نے مکھی سے نظر ہٹا کر دور کے مناظر کو تو دیکھنے کی کوشش ہی نہیں کی!
میں واقعی سوچ رہا ہوں کہ کاش ڈاکٹر اسلم آزاد جیسے لوگ محلے محلے میں ہوں، جو دوسروں کو تاجکستانی شاعر ناظم حکمت کی طرح ترغیب دیں کہ: “حالات کیسے بھی ہوں، زندگی دکھوں کا بوجھ بن جائے، لیکن پھر بھی اپنے دل کو روشن اور درخشاں رکھو، اگر تم چاہتے ہو کہ ہمارا مستقبل بہترین ہو تو!”
حضرات مجھے اسٹیفن ولیم ہاکنگ اور ڈاکٹر اسلم آزاد ایک ہی قطار میں کھڑے ہمارے لیے سنگٍ میل کی طرح نظر آتے ہیں.
آئیں، اور اس تیس اگست کو ڈاکٹر اسلم آزاد کو “ہیپی برتھ ڈے ٹو یو” کہیں، اور اسے لمبی عمر کی دعائیں دیں! کہ یہ ہیں ہمارے ملک کے اثاثے، کیونکہ یہ ہیں ہمارے روشن مستقبل کے امین کہ جن کی آستینوں میں ہماری خوبصورت صبح کے خورشید ہوتے ہیں.