دنیائے انٹرنیٹ پر پہلی اردو نستعلیق کی خوبصورتی والی سائیٹ پر خوش آمدید بند کریں

اردو کالم اور مضامین

آئینہ

ساری دنیا اس وقت ایک بد حواسی کے دور سے گذر رہی ہے، اور مجھے یہ کہتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ اس کے ذمیوار ہم ہی ہیں۔
دولت کی اس بھوکی دنیا میں ھر کسی کی روح پیاسی ہے. کتنا اچھا لگتا ہے کہ جب ہم دیکھتے ہیں کہ ہم سبھی بازار کے قبضے میں آ چکے ہیں. ایسا بازار کہ جس میں پیار کو بیوپار میں بدل دیا گیا ہے. جہاں آدمی کچھ نہیں، وفا کچھ نہیں، دوستی کچھ نہیں۔۔
اور مجھے یہ کہتے ہوئے بالکل شرم محسوس نہیں ہو رہی کیونکہ اس کے ذمیدار بھی ہم ہی ہیں، ایک عجیب سے خواب میں کھوئے ہوئے ہیں ہم، ایک نئی دنیا کی امید لیے ہوئے ہیں ہم کہ جہاں زندگی سے موت سستی ہے.

کتنا اچھا لگتا ہے کہ ہماری پرانی دقیانوسی روایات، تہذیب و تمدن کی قیمت کچھ نہیں! ہم انسان کتنے عظیم ہیں، جنہوں نے اپنے ہی ہاتھوں اپنی ہی تباہی کا سامان بنایا ہے!
اور اسی تباہی کا نظارہ ہم مزے لے لے کر دیکھ رہے ہیں. ہمیں یہ کہتے ہوئے فخر محسوس ہوتا ہے کہ ہم اپنی آنے والی پیڑھی کو ایک کھوکھلا سماج دے رہے ہیں. جہاں آدرش نہیں، پیار نہیں، ایک دوسرے کے لیے عزت نہیں، جہاں ہتھیاروں کو پھولوں کی مالائیں پہنائی جاتی ہیں، وڈیو گیمز سے اپنے بچوں کو صرف جنگ و خون کے نظارے دکھائے جاتے ہیں. کتنا اچھا اثر پڑے گا انکے ننھے اور معصوم ذہنوں پر؟ کبھی سوچا آپ نے؟ نہیں کیونکہ ہم سب اب مادی ضروریات میں اندھے ہو ہی چکے ہیں، اتنے اندھے کہ جہاں ہم دوسروں کو تو کیا ہم خود اپنے آپ کو بھی نہیں پہچان سکتے؟ تو ذرا آئیں، ایک آئینے کے پاس؟ میں دکھا رہا ہوں کہ ہم کیا تھے؟، اور کیا سے کیا بن گئے ہیں۔۔۔!

دھماکوں سے ڈرائو، اور حکومتیں کرو۔۔ امریکا اور پاکستان

بٹوارے کرائو اور حکومتیں کرو (Divide & Rule) کا دؤر ہوگا، بلکل تھا۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد خصوصی طور پر سرد جنگ والے دور میں تو یہ طاقتور ممالک کا مرغوب ترین ہتھکنڈہ تھا۔ لیکن امریکا بہادر جان گیا کہ اب مزید اس طریقے سے لوگوں پر حکومت نہیں کی جاسکتی، سو سرد جنگ کے دوراں ہی امریکا کی بہت بڑی یونیورسٹیوں کے پروفیسر اور ڈاکٹر نئے عزم کی کھوج کے لیے معمور کروائے گئے اور بالاخر روس کے ٹوٹنے سے پہلے ہی انہیں ایک گھنائونا منصوبہ مل گیا۔ وہ کیا تھا؟
اسے (Shock & Awe) یعنی جھٹکا دو، دھماکے کرائو اور لوگوں کو ڈرائو، پھر ان پر حکومت کرو۔

hghfjf ()

سوال، سوالی، آداب

"استاد محترم، مجھے بتائیے کہ وجدان تک پہنچ کیسے ہوسکتی ہے؟"
یہ سوال تھا پچھلی صدی کے اوائل میں پورے یورپ اور مغربی روس کے علائقوں میں اپنی روحانی دھاک بٹھانے والے جارج گرڈجیف کا جو اس نے عراق میں اپنے استاد حسن کربلائی سے پوچھا تھا۔ یاد رہے کہ پئنتیس دن گذر جانے کے بعد جس میں گرڈجیف ادھر سے ادھر مارا پھرتا تھا لیکن قبلہ حسن کربلائی سے تخلیہ میں بات کرنے کا موقع نہیں پا رہا تھا۔

hghfjf ()

مسیحا یا مہدی سے سپرمین تک

سچ تو یہ ہے کہ میں بالکل کھل کر نہیں بولتا، ہاں کبھی کبھار بول بھی لیتا ہوں لیکن دلائل کے ساتھ!
اصل میں، جو میں سمجھ رہا ہوں وہ یہ کہ انسان بنیادی طور پر چاہے کتنا ہی دلائل اور اشیاء کی وجہ سے طاقتور کیوں نہ ہو لیکن اپنے جوہر میں وہ بہت ڈرپوک ہے. وہ پیدا ہوتے ہی سہارے مانگتا ہے. بڑا ہوتا ہے تو وہ تصوراتی سہاروں کی تلاش میں ہی رہتا ہے. اور یوں انسان خدا کے سامنے آجاتا ہے! پہلے جنگلی جانوروں سے ڈرتا تھا، جنگل کی آگ سے ڈرتا تھا، بیماریوں سے، موت سے، نیز اس کی ابتدا میں اسے وسائل کے استعمال سے زیادہ "لامرئی ڈر" زیادہ ملا...

hghfjf ()

معجزات یہ کیا کم ہیں

دور کیوں جائیں ہم یہیں کہیں ہی دیکھینگے. معجزات کیسے ہوتے ہیں، اس کے لیے آپ کو کسی مذہبی تواریخ کا کوئی ورق تک نہ پلٹانے کی ضرورت ہوگی، نہ ہی یہ خواری کہ کوئی کہے گا کہ فلاں راوی تو ایویں ہی تھا یا فلاں تو اس کے بعد اتنے برسوں کے بعد پیدا ہوا... اجی چھوڑیے! سندھی میں ایک ضرب المثل ہے کہ کچرے کا ڈھیر پاس ہی ہو تو باہر کیوں جائیں!

hghfjf ()

ایک عزم، اور اناالحقی اعتراف

مجھے کوئی آٹھ برس ہوئے سوائے کسی جنازہ کے، کوئی بھی نماز نہیں پڑھی، حتیٰ کہ عید کی بھی! 

وجہ؟

کیوں کہ میری آخری عید کی نماز پر میں نے کچھ ٹھان لیا. ہوا یوں کہ اپنے خطبے کے دوراں مُلا کی واہیات باتوں پر میں آہستہ سے اٹھا، صفوں کو چیر کر مولوی کے پاس پہنچا اور اسے ایک زناٹے دار تھپڑ اس کے منہ پر رسید کی اور مائیک چھین کر اپنا مدعا بیان کیا. 

لوگ چپ... میں صحیح تھا! 

hghfjf ()